درود تاج
سوال
درود تاج کا پڑھنا کیسا ہے کیونکہ اس میں دافع البلاء والوباء والقحط والمرض وغیرہ کے الفاظ ہیں، اس درود کی فضیلت بہت زیادہ لکھی ہے، اس درود کی ترتیب کب اور کس نے کی، اور چیچک وغیرہ میں عام طور سے گیارہ دفعہ پڑھ کر دم کرتے ہیں، حالانکہ کسی حدیث سے ثابت نہیں، فتاوی رشیدیہ جلد دوم میں اس حدیث کو پڑھنا شرک وبدعت قرار دیا ہے، کہاں تک درست ہے، عوام کو دفع مرض ووظیفہ کے طور پر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ اس کو پڑھنے سے گناہ ہوتا ہے یا ثواب ملتا ہے؟
جواب
ابتداء معلوم نہیں کس نے ایجاد کیا ہے، جو فضائل عوام جہال بیان کرتے ہیں وہ محض لغو اور غلط ہیں، احادیث میں جو درود وارد ہیں وہ یقیناً درود تاج سے افضل ہیں، نیز اس میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں اس لئے اس کو ترک کرنا چاہئے۔ فتاوی رشیدیہ میں اس کے متعلق جو کچھ لکھا ہے صحیح ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔