الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا کسی مسجد میں ۴ سال مغرب کی نماز پڑھنے سے حج کا ثواب ملتا ہے

سوال

حضرت شاہ نظام الدین بھکاری کے زمانہ سے مغرب کی نماز موصوف کی درگاہ کے پاس ندی کے اندر ہوتی ہے، خطیب جامع مسجد مغرب کی نماز پڑھاتے ہیں، دور دراز سے لوگ اس کے لئے سفر کرتے ہیں، اور یہ مشہور کر رکھا ہے کہ ۴/ سال یا ۷/ سال مغرب کی نماز وہاں ادا کرے تو ایک حج کا ثواب ملتا ہے، کیا اس طرح نماز پڑھنا، پڑھانا، ایسا عقیدہ رکھنا جائز ہے؟ کیا قرآن وحدیث میں اس کی کوئی اصل موجود ہے؟ اور کیا وہاں اس مسجد میں ۴/ یا ۷/ سال مغرب کی نماز ادا کرنے سے فریضہ حج ادا ہو جائیگا، یا نہیں؟ اور کیا اس شخص کو حاجی کہا جا سکتا ہے؟

جواب

(۱) یہ طریقہ بے اصل ہے، اس کی کوئی اصل شرع میں نہیں ہے، تین مساجد کے متعلق مخصوص ثواب کی تصریح احادیث میں موجود ہے (۱) مسجد حرام (۲) مسجد نبوی (۳) مسجد اقصیٰ ان کے علاوہ کسی اور مسجد کے لئے سفر کرنے کی ممانعت ہے”لا تشدو الرحال الا الى ثلاثة مساجد“ الحدیث۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو