قبر میں روح ڈالی جائے گی
سوال
”ربنا امتنا اثنتين واحييتنا اثنتين فاعترفنا بذنوبنا فهل الى خروج من سبيل“ (ترجمہ) اے رب تو نے ہم کو دوبارہ موت دی، اور دوبارہ زندہ کیا ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، کیا جہنم سے نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟ اس آیت کے مطلب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف دوبارہ موت اور دوبارہ زندگی انسان کو دی جائے گی، اب رہی یہ بات کہ قبر میں مردے کے جسم میں روح ڈالی جائیگی، یہ تیسری زندگی ہوگی، اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے، تیسری زندگی کونسی ہوگی وہ دلیل سے معلوم کریں؟
جواب
ایک حدیث شریف میں موجود ہے کہ مردے میں روح قبر میں ڈالی جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔