الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

انتقال کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا

سوال

ہندو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے سادھو بابا اور مہا پرش لوگ اپنی سادھنا کے زور سے اپنے جسم کو منتقل کر کے اپنی اصل صورت میں دنیا طے کر سکتے، یہاں کے چند مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ ہمارے اولیاء اور انبیاء بھی اپنے جسموں کو منتقل کر کے جہاں چاہے جا سکتے ہیں خاص کر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم انتقال کے بعد بھی آپ کی بھی روح پاک دنیا کی تمام جگہ کی سیر کر سکتی ہے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

جواب

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت و نصرت ہو جائے تو انتقال کے بعد بھی روح دنیا میں آسکتی ہے محض اپنی خواہش سے بغیر خدائے پاک کی اجازت ونصرت کے نہیں آسکتی زندہ رہتے ہوئے مختلف مقامات میں کسی کا چلا جانا عملیات سے بھی ہو سکتا ہے، اور مجاہدے سے بھی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو