حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب پاک ہے
سوال
ایک عالم نے اپنے وعظ میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پیشاب کیا اور صحابی کو پھینک دینے کیلئے دیا، وہ دوسری جگہ پر جا کر اس کو پی گئے، جب واپس آئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ پھینک دیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ پی گیا، میرے پیٹ میں درد تھا وہ ٹھیک ہو گیا، اس پر آپ مسکرائے اور کہا کہ اب درد نہیں ہوگا، اس بناء پر چند سامعین نے رقعہ دیا کہ آپ نے روایت غلط بیان کی، اگر اس قسم کی روایت غیر مسلم کو مل جائے، تو وہ اسلام پر سخت اعتراض کر سکتے ہیں کہ ہم کو گائے کا پیشاب پینے پر کیوں برا کہا جائے، اس پر…
جواب
حضرت نبی کریم ﷺ تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ طاہر اطہر مزکی تھے، آپ ﷺ کی کوئی چیز نجس نہیں ہے نہ دوسرے آدمیوں کو آپ ﷺ پر قیاس کیا جاسکتا ہے، جو روایت آپ نے سوال میں نقل کی ہے وہ شفاء میں موجود ہے۔ یہ کتاب قاضی عیاض کی تصنیف ہے اور معتبر ہے اسی طرح زرقانی شرح مواہب لدنیہ اردو شرح شفاء اور شامی در مختار وغیرہ میں بھی ہے، البتہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے از خود اس کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔