حضور اکرم ا کے اختیارات از بہار شریعت
سوال
بہار شریعت حصہ اول، ص ۲۲، حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے نائب مطلق ہیں، تمام جہاں حضور ﷺ کے تحت تصرف کر دیا گیا، جو چاہیں کریں، جسے وہ چاہیں دیں جس سے جو چاہیں واپس لیں، تمام جہان میں ان کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، تمام جہان ان کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں، تمام ان کی ملک ہے، تمام جنت ان کی جاگیر ہے، ملكوت السموات والارض حضور ﷺ کے زیر فرمان رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور ﷺ کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں، دنیا وآخرت حضور ﷺ کے عطا کا ایک حصہ ہے، احکام تشریعیہ حضور ﷺ کے قبضہ میں کر دیئے گئے کہ جس…
جواب
یہ عظیم الشان عقیدہ بلانص کیسے تسلیم کیا جاوے خاص کر جب کہ نصوص اس کے بالکل خلاف موجود ہوں۔ ملاحظہ ہو: عقائد مذکورہ کے ثبوت میں مصنف نے کچھ دلائل بھی پیش کئے ہیں، یا نہیں میں نے بہار شریعت کا کبھی مطالعہ نہیں کیا کسی جگہ سے دستیاب نہیں ہوئی، بریلی سے منگائی تھی وہاں سے جواب نہیں آیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔