الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک شخص کا بعض مغیبات کی خبر دینا

سوال

ایک شخص نے ایک بچہ کے متعلق کہا کہ صرف دو ماہ زندہ رہے گا اور وہ واقعی دو ماہ کے بعد ختم ہو گیا، ایک لڑکی کے متعلق کہا کہ تو اپنے بیٹے کا آرام نہیں دیکھ سکتی، اور پانچ ماہ کے بعد تم ختم ہو جاؤ گی، وہ بھی پانچ ماہ کے بعد ختم ہوگئی، میری عورت کے بارے میں کہا کہ تمہارے اوپر سات جھٹکے آئیں گے، یا تم پہلے جھٹکے میں ختم ہو جاؤ گی، یا پانچویں میں اب میری عورت پر پانچ جھٹکے آچکے ہیں، ہم پریشان ہیں، شریعت مطہرہ میں اس مسئلے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اس قسم کی باتیں بتا کر مخلوق کو پریشانی میں ڈالنا بہت ہی غلط طریقہ ہے، حضرت نبی اکرم ﷺ نے کسی کے متعلق ایسا نہیں فرمایا کسی کی موت کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ قرائن یا کسی کشف سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ شرعی حجت نہیں، آپ کو پریشان نہیں ہونا چاہئے، یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ کو جھٹکا ہی نہ آئے یہ بھی ممکن ہے کہ مدت دراز کے بعد بالکل اخیر میں آئے، جتنی عمر اللہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو