الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اشعار میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب

سوال

اگر کوئی شخص رباعی ذیل کو اس عقیدے سے پڑھے کہ جو فرشتے درود شریف دربار رسالت میں لے جا کر پیش کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں، میری طرف سے اس رباعی کو دربار رسالت میں پیش کریں گے، پڑھے تو کسی قسم کا شرک وگناہ تو نہیں جبکہ کسی کے سامنے بھی نہ پڑھتا ہو بلکہ علیحدہ پڑھتا ہوتا کہ عوام کا عقیدہ خراب نہ ہو، یہ بھی سنا ہے کہ یہ رباعی حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی کی ہے، اس کی کیا اصل ہے؟ رباعی حسب ذیل ہے۔ یا رسول الله انظر حالنا، تا آخر بینوا توجروا

جواب

ساتھ ساتھ یہ عقیدہ ہونا بھی ضروری ہے کہ حضور اقدس ﷺ خود بذاتہ (بلا حکم خداوندی) کسی کی کوئی مشکل حل نہیں کر سکتے، بلکہ وہ بھی ہر بات میں خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں البتہ ان کی برکت اور طفیل سے اللہ پاک اپنے بندوں کے بہت سے کام درست اور موافق مقصود بنا دیتے ہیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حق ہے، اس رباعی کا حال مجھے معلوم نہیں کہ کس کی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو