پیر فقیر وغیرہ سے حاجتیں مانگنا
سوال
جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں بلکہ نور ہیں یعنی خدا کے نور سے جدا ہیں یا ان کو خدا نے نوری ذات سے پیدا کیا ہے، اور تمام انبیاء علیہم السلام عالم الغيب ماکان ومایکون اور ہر جگہ حاضر وناظر ہیں، اسی طرح تمام پیغمبر علیہم السلام پیر فقیر خدائی طاقتوں کے مالک ہیں، اب ہمیں پیروں فقیروں سے حاجت مانگنی چاہئے، کیونکہ یہ ہمارے خدا کے وکیل ہیں، ہماری سفارش کر کے کام کروادیں گے، ایسے عقیدہ والا آدمی شریعت محمدی میں مسلمان ہے، یا کافر اسکے ساتھ مسلمانوں جیسا برتاؤ کرنا چاہئے یعنی نماز جنازہ پڑھنا اور…
جواب
ایسے عقیدے رکھنا درست نہیں، ایسے شخص کو توبہ لازم ہے، اگر ایسے عقیدہ والے آدمی کو ان عقیدوں کے اعتبار سے دلائل کی روشنی میں دیکھا جائے اور تاویل بعید کر کے اسکو نہ بچایا جائے تو اسکو مؤمن موحد نہیں کہا جائیگا، بلکہ اس کے اوپر مشرک ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔