الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استمداد

سوال

(۱) زید کہتا ہے کہ استمداد بغیر اللہ حرام ہے، خواہ حالت حیات میں ہو یا بعد از موت خواہ انبیاء علیہم السلام ہوں یا صلحاء واولیاء وغیرہ اور زید اپنے استدلال میں آیت کریمہ پیش کرتا ہے ایاک نعبد وایاک نستعین اور حدیث بھی پیش کرتا ہے اذا استعنت فاستعن بالله اور عمر کہتا ہے کہ تمہارا یہ قول استمداد بغیر اللہ خواہ حالت حیات میں ہو یا ممات میں ہو حرام ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہر کس وناکس حالت حیات میں امداد طلب کرتا ہے، بقول تمہارے حرام ہے اور نیز انبیاء واولیاء وغیرہ کے توسل سے استمداد کرنا، تمہارا یہ کہنا صحیح نہیں…

جواب

(۱) آج کل عوام میں جو طریقہ استمداد باہل القبور کا جاری ہے وہ حرام بلکہ شرک ہے کیونکہ عوام اعتقاد کرتے ہیں کہ اہل قبور ہماری آواز کو ہر جگہ سے سنتے ہیں، اور مستقل علم وقدرت رکھتے ہیں کہ ہر جگہ سے ہماری ہر طرح کی امداد کر سکتے ہیں، یہ عقیدہ شرک ہے اور حدیث اذا اراد عوناً، الخ کہاں ہے حوالہ دیا جائے، البتہ اگر کوئی شخص اللہ تعالٰی سے یہ دعا کرے کہ اے اللہ اپنے انبیاء اولیاء…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو