پیرانِ پیر سے مدد مانگنا
سوال
ایک عورت دردزہ کی تکلیف میں کسی ولی سے استغاثہ کا کلمہ مثلاً” یا محی الدین بے اختیار زبان سے کہتی رہے، تو اسکے متعلق کیا حکم ہے؟ نیز اس علاقہ میں استغاثہ کرنا عوام میں رائج ہے مثلاً یا غوث الاعظم لیکن یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے کہنے والوں کے پیش نظر واقعہ ان اولیاء سے استغاثہ ہی مقصود ہے، اس صورت میں کیا حکم ہے؟ بلکہ صراحہ جب پوچھا جائے تو وہ بھی استغاثہ کی نفی ہی کرتے ہیں، گویا محض عادةً یہ کلمات زبان پر جاری ہوتے ہیں؟
جواب
اگر حضرت محی الدین قدس سرۀ کو حاضر وناظر فریادرس اعتقاد نہ کرتے ہوئے بھی یہ صورت اختیار کی جاتی ہے، تب بھی یہ صورۃً شرک ہے، اسلئے اس سے توبہ واجتناب ضروری ہے، اگر اعتقاد بھی ہو تو پھر شرک ظاہر ہے، جیسا کہ مجمع الانہر میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔