الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

یا شیخ عبد القادر جیلانی کا وظیفہ

سوال

وظیفه یا شیخ عبدالقادر جیلانی ” شيئاً لله“پڑھنا از روئے عقائد اہل سنت والجماعت اور بالخصوص عقائد حنفیہ جائز ہے یا نہیں ونیز حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو حاضر وناظر، عالم الغیب وحاجت روا، فریادرس، مشکل کشا، متصرف اور ہر شخص کی ہر مقام سے بر وقت ندا اور پکار کا سننے والا سمجھ کر وظیفہ مذکورہ پڑھنا شرعاً کیسا ہے؟ اگر کوئی شخص اس کتبہ کو مسجد کی پیشانی سے اُسے قرآن پاک اور سنت رسول اللہ ﷺ اور عقائد اہل سنت والجماعت کے خلاف بلکہ مسجد کی غرض وغایت کے خلاف سمجھتے ہوئے محو کردے، تو شریعت محمدیہ کے نزدیک اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

وظیفہ مذکورہ پڑھنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ہر جگہ حاضر وناظر عالم الغیب وغیرہ وغیرہ ہیں، شرعاً کسی طرح جائز نہیں، ایسا عقیدہ حرام بلکہ شرک ہے، کیونکہ یہ صفات خداوند تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں ” وعندہ مفاتح الغيب لا يعلمها الاهو الآية جو شخص کسی اور میں ان صفات کا عقیدہ رکھتا ہو فقہاء نے اس کی تکفیر کی ہے، ویکفر بقوله ارواح المشائخ حاضرة تعلم الخ (مجمع…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو