الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسئلہ امکان کذب اور فتح المبین میں تلبیس

سوال

مارچ ۷۵ء میں مقام کو سیار میں علماء دیوبند وعلماء بریلوی میں مناظرہ ہوا، مخالفین کی طرف سے محمد حسن سنبھلی اور اپنی طرف سے مقامی علماء تھے، ہمارے علماء بوجوہ چند جواب نہ دے سکے، اہم اعتراض ان کا امکان کذب تھا، حضرت گنگوہی نے فتاوی رشیدیہ میں لکھا ہے کہ وقوع کذب ممتنع ہو گیا، حضرت شیخ الہند نے” جهد المقل میں امکان کذب کو ثابت کیا ہے، براہین قاطعہ میں خلف وعد کو خلف وعید کی فرع لکھ کر امکان کذب کا اعتراف کیا ہے، دلائل سے قطع نظر مولانا عبدالعلی صاحب آسی مدارسی نے ایک کتاب (فتح المبین مع تنبيه الوهابيين)

جواب

الفتح المبین “کو مبتدعین نے طبع کرایا اور ضمیمہ کا اضافہ کیا جو کہ مصنف الفتح المبین کا نہیں اور علماء کرام کے جو دستخط الفتح المبین کے آخر میں تھے، ان کو ضمیمہ کے ختم پر منتقل کر دیئے، تا کہ دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ یہ علمائے کرام اس ضمیمہ کے موافق اور مؤید ہیں، ظاہر ہے کہ یہ کس قدر بڑی تلبیس اور فریب کاری ہے، جب مصنف الفتح المبین کو اس کی اطلاع ہوئی تو مصنف مرحوم ومغفور نے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو