کیا ہر وقت دیدار خداوندی ہو سکتا ہے
سوال
زید کہتا ہے کہ مجھے ہر وقت ایسا دیدار رہتا ہے کہ بغیر اس کے میرا چلنا اور سکون مشکل ہے، اور یہ شعر پڑھتے رہتے ہیں۔ در تو پھر ہی دیکھیں گے میں نے تجھ کو دیکھ لیا اور نماز وغیرہ پڑھتے ہیں، اور لوگ ان کے مرید بھی ہیں، اس قسم کی باتوں سے عوام کے عقیدے خراب ہونے کا ڈر ہے، ایسے شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب
یہ تو ممکن ہے کہ کسی شخص کو ایسا استحضار حاصل ہو جائے کہ غفلت نہ ہو لیکن یہ دیکھنا ان آنکھوں سے دیکھنا نہیں ہے بلکہ دل میں یہ ایک تصور ہے، قرآن پاک میں ہے”لا تدرکه الابصار“ یہ آنکھیں اس ذات پاک کا ادراک نہیں کر سکتیں، مگر جن کو یہ تصور حاصل ہو جاتا ہے وہ دعوی کرتے اور کہتے نہیں پھرا کرتے، اس سے عوام کے عقیدے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔