قرآن افضل ہے یا سید
سوال
ایک مولوی صاحب سے کسی نے شانِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور شان قرآن پاک کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ یہ مسئلہ نازک ہے عام لوگوں کی فہم سے اوپر ہے لیکن سائل ایک سید تھا جسکا یہ عقیدہ ہے کہ ہم قرآن شریف سے بوجہ اولاد ہونے بی بی فاطمہ کے افضل ہیں، لہذا ہم پر شریعت کی پابندی ضروری نہیں، مولوی صاحب نے عظمت قرآن شریف میں فرمایا کہ قرآن شریف کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی”لا يمسه الا المطهرون اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ لگانا حالت جنابت اور وضو نہ ہونے میں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، ان احادیث سے…
جواب
جاہل سید کا یہ مقولہ انتہائی جہالت پر مبنی ہے، شریعت غرّءا کی پابندی خود بی بی فاطمہ اور ان کے شوہر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ضروری تھی، آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ چوری کرے (اعاذنا الله منها) تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹوں گا۔ پھر حضرت بی بی فاطمہ کی اولاد پر شریعت کی پابندی کیسے ضروری نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔