الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ دے کر احسان جتانا

سوال

میں نے زکوۃ فرض میں سے بیس روپے ایک بیوہ عورت کو دیئے مگر ایک مرتبہ غصہ میں یہ الفاظ نکل گئے کہ زکوۃ کھا کر مقابلہ کرتی ہے، ان الفاظ سے زکوۃ باطل ہو جائے گی یا نہیں؟ جیسا کہ پارہ تلک الرسل کے الفاظ ہیں: ”یا یھا الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والاذی الخ“ اور اب اس روپے کی مقدار دوبارہ دینا ضروری ہے یا نہیں؟ نیز یہ واقعہ زکوۃ دینے سے تقریباً ایک سال بعد کا ہے۔

جواب

اس زکوۃ کا تو دوبارہ ادا کرنا ضروری نہیں، کیونکہ فریضہ ادا ہو گیا، البتہ اسپر رضائے خداوندی مرتب نہیں ہوگی۔ اس کیلئے معافی مانگنے اور اسکو خوش کرنے کی ضرورت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو