جو رقم بقصد زکوۃ الگ رکھ دی گئی اس میں تصرف کا حکم
سوال
زکوۃ یا عشر کے لئے ایک رقم متعین کر کے الگ رکھ دی، اب اگر اس سے دوسرا سکہ بدلنا چاہے یا چھوٹا سکہ ہے اس کے عوض بڑا رکھنا چاہے تو جائز ہے یا نہیں؟ منشاء یہ ہے کہ جو رقم الگ کی ہے بالتعیین اس کی علیحدگی تو ضروری ہے۔
جواب
زکوۃ یا عشر کی رقم علیحدہ رکھ دینے سے ملک سے خارج نہیں ہوتی، لہذا اس میں تغیر و تبدل کا تصرف جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔