اپنی زکوۃ کو فقیر سے خریدنا
سوال
ایک عورت نے کتنے ہی سال سے اپنے زیور کی زکوۃ ادا نہیں کی اکنوں سال بقیہ کی زکوۃ ادا کرنے سے دشواری ہوئی لہذا انکی بعض محبین نے ان سے کہا کہ آپ کی زیور میں سے کچھ زیور بنیت زکوۃ ان کو دیدیں وہ قبضہ کر کے نصف قیمت سے اس عورت کو بیچ ڈالا اب اس صورت میں اس کی زکوۃ ادا ہو گی یا نہیں؟
جواب
زکوۃ کیلئے ضروری ہے کہ معطی کی کوئی ذاتی منفعت بجز فریضہ کے نہ ہو پس اگر اس شرط پر وہ اس عورت کو زکوۃ دیتا ہے کہ وہ شخص اس زیور کو اس عورت کے ہاتھ فروخت کر دے تو یہ شرط باطل ہے اسکا پورا کرنا معطی لہ کے ذمہ ضروری نہیں تاہم اس شرط پر بھی مستحق کو دینے سے زکوۃ ادا ہو جائیگی اسکے بعد معطی لہ کو اختیار ہے خواہ اس عورت کے ہاتھ فروخت کرے یا نہ کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔