زکوۃ کے روپیہ کی تملیک کے بعد واپسی
سوال
(۱) ہمارے یہاں قصبہ لو پورہ میں ایک اسلامی مکتب ہے، مکتب کے نام پر ایک دوسری جگہ سے مبلغ چار سو چھتیس روپیہ زکوۃ کے مہتمم کے پاس آئے، مکتب میں زکوٰۃ کا مصرف نہ تھا، لہذا مہتمم نے یہ ۴۳۶ روپیہ زکوۃ کا ایک دوسرے شخص زید کو بطور تملیک دیدیا اور کہا میں نے یہ روپیہ مدرسہ میں دیا، اس کو مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کرو، مہتمم نے روپیہ زید سے نہیں لیا اور کہا کہ تم ہی رکھو، ضرورت پڑنے پر تم سے ہم لیتے رہیں گے، ضرورت کے موقعہ پر زید نے اس میں سے مبلغ ۲۹۰ روپیہ مدرسہ کو دیدیئے اور باقی ۱۴۶/ روپیہ کو اپنی ضرورت میں خرچ کر لیا،…
جواب
جب یہ روپے مکتب کے نام مہتمم صاحب کے پاس آئے تو مہتمم صاحب کو حق نہیں تھا کہ کسی غیر آدمی کو دیدیں، غیر آدمی کے دینے کی وجہ سے ان کے ذمہ ضمان لازم ہے یا پھر جتنا روپیہ اسنے دید یا اسکا مکتب میں صرف کرنا اس دینے والے کی طرف سے درست ہے، جو باقی رہ گیا اسکا ابھی مدرسہ میں دینا معتبر نہیں، اس پر مہتمم کا قبضہ نہیں ہوا تھا، وہ وعدہ کے درجہ میں ہے، اس کو چاہئے کہ اپنا وعدہ پورا کرے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔