الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ سے تنخواہ ملازمین مدرسه

سوال

ہمارے یہاں ایک مدرسہ عربیہ عرصہ سے قائم ہے، جس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے، اور غریب و نادار طلبہ کے قیام و طعام لباس اور دیگر ضروریات سے امداد واعانت کی جاتی ہے، مدرسہ مذکورہ میں کئی قسم کی آمدنیاں ہیں قسم اول منافع جائیداد موقوفه، چنده عمومی، خصوصی امداد سرکاری، صدقات نافله قسم دوم صدقات مثل زکوة و قیمت کھال وغیرہ وغیرہ۔

جواب

صدقات واجبہ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ ان کو مصارف (فقراء وغیرہ) پر بطور تملیک بلا عوض صرف کیا جائے لہذا تنخواہ میں دینا جائز نہیں، اگر کارکنان مدرسہ بغیر شرعی حیلے کے تنخواہ میں دیں گے، تو زکوۃ وغیرہ ادا نہیں ہوگی اور اصل معطی کے حق میں یہ لوگ ضامن ہوں گے۔ ھکذا في كتب الفقه

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو