چندہ کے پیسہ سے تنخواہ دینا
سوال
ایک مدرس رمضان شریف میں مدرسہ کی جانب سے چندہ وصول کرنے جاتا ہے، جس میں وہ زکوۃ، فطرہ وغیرہ کے روپے لے کر آتا ہے، تو گھر پر آجانے کے بعد قبل از تملیک اس پیسہ میں سے مدرس کی تنخواہ دی جاسکتی ہے، یا نہیں؟
جواب
زکوۃ کے پیسہ سے تنخواہ دینا جائز نہیں، جب مستحق کے پاس وہ پیسہ بطور ملک پہنچ جائے گا تب زکوۃ ادا ہوگی پھر وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنی طرف سے بطیب خاطر مدرسہ میں دیدے تو تنخواہ میں دینا درست ہوگا
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔