الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زکوۃ سے مدرسین کی تنخواہ دینا

سوال

ایک مدرسہ ہے جس میں بیرونی طلبہ بہت کم ہیں، غریب مدرسہ ہے، اگر طلباء کو روپیہ دیدیں، تو ممکن ہے کہ لے کر بھاگ جائیں آخر مدرسین کی تنخواہ کس طرح دی جائے؟ مدرسین مال زکوۃ لیں یا نہ لیں؟ فقط

جواب

صدقہ واجبہ اور زکوۃ کا غرباء پر تملیکا صرف کرنا بلا معاوضہ ضروری ہے، مدرسین وغیرہ کی تنخواہوں میں براہ راست دینا جائز نہیں، اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، لڑکوں پر تعلیمی فیس تجویز کر دی جائے اس سے ملازمین کی تنخواہ ادا کی جائے، جو لڑکے غریب ہوں ان کو زکوۃ سے وظیفہ دیا جائے وہ اس سے فیس دیدیا کریں، اس طرح زکوۃ بھی ادا ہو جائے گی، اور تنخواہ کا انتظام بھی ہو جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو