الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بینک کا سود اور زکوۃ سادات کو دینا

سوال

پچھلے دنوں شری وردھن سے ایک استفتاء بھیجا گیا تھا، اس سلسلہ میں چند باتیں دریافت طلب ہیں، سوال یہ تھا کہ بینک جو سود دیتا ہے، وہ لیا جائے یا نہیں؟ لینے کی صورت میں کیا کیا جائے؟ ضائع کیا جائے یا غرباء کو دیا جائے؟ غرباء میں سادات کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یا اسکول کی تعمیر یا اسکول کے لئے پیشاب خانہ، بیت الخلاء یا عام لوگوں کے لئے پیشاب خانہ بیت الخلاء بنایا جا سکتا ہے، یا نہیں؟

جواب

سود کی حرمت منصوص بنص قطعی ہے بینک کو اس سے مستثنی نہیں کیا گیا، اسلئے وہ حرام ہے، بینک سے اگر سود وصول نہ کیا جائے تو وہ خلاف اسلام مواقع میں استعمال کیا جاتا ہے، جس کا ضرر ظاہر ہے، اس ضرر سے تحفظ کے لئے وہاں سے وصول کر لیا جائے، پھر خود استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ حرام ہے، حرام مال واجب التصدق ہوتا ہے، جو شخص ایسے واجب التصدق مال کا مستحق ہو اس کو دیدیا جائے، جو غرباء طلباء…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو