زکوة کا مستحق كون
سوال
فریضہ اداء زکوۃ سے تو سب ہی لوگ غافل ہیں، زید کی بہن ہندہ بیوہ ہوگئی، ہندہ کو زید اپنے گھر لے آیا، ہندہ کے ساتھ تین لڑکے ہیں، زید لکھ پتی آدمی ہے، تقریباً سو بیگہ زمین ہے، جس میں باغ پرورش ہو گیا، اور پیسوں کی تجارت ایسی بڑی کہ پورب تک ٹرک جاتے ہیں، مگر یہ شخص زکوۃ نہیں نکالتا، اور جب کہا جاتا ہے تو یوں کہہ دیتے ہیں، ہم تو اپنی بہن ہندہ کا خرچہ اٹھاتے ہیں، اور دیتے ہیں، یہ مصدقہ امر ہے، کہ ہندہ کو کبھی بالحساب زکوۃ نہیں دی گئی، اور ہندہ ایسی ہے کہ روپیہ دے کر کسی دوسرے شخص سے تجارت بھی کر لیتی ہے، بھینس کی کیا زید…
جواب
جتنی مقدار ہندہ کو بہ نیت زکوۃ دیجائے، اور وہ نہ تو خدمت کا معاوضہ ہو، نہ اسکے حق پدری کے معاوضہ میں ہو، نہ اسکے دباؤ میں ہو (کہ وہ میراث کا مطالبہ نہ کر بیٹھے) اور ہندہ مستحق زکوۃ بھی ہو کہ وہ ساڑھے باون تولہ چاندی، ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت کے روپئے نوٹ وغیرہ کی مالک نہ ہو تو اتنی مقدار زکوۃ ادا ہو جائیگی، باقی زکوۃ ذمہ میں باقی رہیگی، جو کھانا ہندہ ساتھ کھاتی ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔