زکوة وعشر کا مصرف
سوال
(۱) زکوۃ اور عشر کی رقم سے فساد زدہ مسلمانوں کی امداد کی جاسکتی ہے، یا نہیں؟ (۲) کسی یتیم بچے کو میں اپنی پرورش میں رکھ لوں اور اس سے اپنی خدمت بھی کراؤں تو ایسے بچے کو زکوۃ اور عشر وغیرہ کی رقم سے کپڑا اور علاج کراسکتا ہوں یا نہیں؟
جواب
(۱) زکوۃ کی رقم واجب التملیک ہے، جو لوگ مستحق زکوۃ ہیں تو انکو تملیکاً دیدی جائے۔ پھر وہ جہاں چاہیں صرف کریں۔ یا ان کو اس رقم کا سامان ضرورت خرید کر دیدیا جائے۔ اس طرح صرف نہ کریں کہ اُن کی ملک نہ ہو سکے، مثلاً اگر ان کا مقدمہ ہو تو عدالت کے اخراجات میں اُن کی طرف سے از خود خرچ نہ کریں، قانون کے موافق ان اطراف میں زمینداروں کی ملک ختم کر کے سب زمین ملک حکومت قرار دیدی گئی ہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔