زکوۃ کا لحاف طلبہ کو دیکر واپس لینا
سوال
ایک مدرسہ کیلئے زکوۃ کے مال سے رقم آئی مہتمم صاحب نے طلبہ کے لئے لحاف و بستر وغیرہ بنائے اب مدرسہ کا سالانہ امتحان ہو گیا وہ لحاف و بستر جو طلباء کو مہتمم صاحب نے دیئے تھے مدرسہ کے صدر مدرس صاحب نے طلباء سے واپس فرمالئے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ طلبہ گھر سے اس مدرسہ میں واپس نہ آئیں جو طلبہ آئندہ سال آئیں گے وہ ان کے کام آئیں گے واپس لئے، ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ہے۔
جواب
زکوۃ ادا ہونے کیلئے مالک بنادینا ضروری ہے محض مستعار دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوئی اگر کوئی مدرسہ کا ذمہ دار مال زکوۃ کو عاریہ دیکر واپس لیتا ہے ان کو مالک نہیں بناتا ہے تو ایسے ذمہ دار کو ہرگز زکوۃ نہیں دی جائے بلکہ خود طلباء کو یا جس کو مستحق سمجھیں لوگ زکوۃ دے دیا کریں اب تک جس قدر لحاف وغیرہ اسی طرح طلباء کو دیکر واپس لے لئے ان کی ذمہ داری صدر مدرس صاحب پر ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔