جہیز کے زیور پر زکوۃ
سوال
(۱) اگر کسی عورت کو جہیز میں مختلف قسم کے سونے کے زیورات ملے ہوں اور وہ بھی کبھی ان کو استعمال میں لاتی ہو اور نصاب سے کم ۷½ تولہ سونے سے زائد کے ہوں تو کیا زکوۃ پورے سونے پر نکالنی ہوگی، یا ے ا تولہ سونا چھوڑ کر باقی سونے پر ہوگی اور کیا شادی کے پورے ایک سال بعد ہوگی اور یہ زکوۃ کی رقم بیوی ہی دے یا شوہر بھی ادا کر سکتا ہے؟ اگر روپیہ شوہر نہ دے اور بیوی کے پاس بھی رقم نہ ہو تو کیا وہ اپنے زیورات سے فروخت کر کے ادا کرے۔
جواب
اگر کم از کم ۷½ تولہ سونا ہے تو زکوۃ واجب ہے اور تمام سونے کی زکوۃ ادا کرے خواہ کبھی استعمال کرے یا نہ کرے زیور اگر عورت کی ملک ہے تو خود عورت پر زکوۃ لازم ہے خواہ زیور دے یا مقدار زکوۃ کی قیمت دے اگر اسکی اجازت سے شوہر دیدے گا تب بھی ادا ہو جائیگی زکوۃ میں ۱\۴۰ دینا لازم ہوتا: واللازم في مضروب كل منهما ومعموله ولو تبرا او حليا مطلقا مباح الاستعمال اولا اهـ در مختار علی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔