الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا اولاد کا نکاح حوائج اصلیہ میں ہے

سوال

کیا ارشاد ہے علماء کرام کا اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی کے پاس نصاب شرعی نقد روپیہ موجود ہے مگر اس کی اولاد کا نکاح نہیں ہوا ہے۔ زمانہ موجودہ کے لحاظ سے اگر لڑکی کے والدین اپنی دختر کو سفید ہاتھوں بیاہ دیں تو دولہا اور اس کی قوم کی نگاہوں میں وہ لڑکی کس قدر ذلیل و خوار ہوتی ہے بلکہ تمام عمر لڑکی کی زندگی برباد ہوتی ہے۔ اور نرینہ اولاد کے واسطے ظاہری اسباب معاش بھی نہیں ہیں غالباً کسی صحیح حدیث شریف کا مضمون بھی ہے کہ اولاد کو لوگوں کا دست نگر نہ چھوڑو۔

جواب

اولاد اگر بالغ ہے تو اس کا نکاح باپ کے ذمہ فرض نہیں بلکہ نکاح کی ذمہ داری شرعاً اولاد پر خود ہے اگر اولاد نا بالغ ہے تو اس کے نکاح کا شرعاً ضروری نہ ہونا بالکل ظاہر ہے۔ اولاد کا نکاح حوائج اصلیہ میں داخل نہیں صرف عدم بلوغ کی حالت میں باپ کے ذمہ نفقہ واجب ہوتا ہے وہ بھی جب کہ خود اولاد کی ملک میں اتنا مال نہ ہو کہ جس کے ذریعہ سے نفقہ پورا ہو سکے اگر اولاد کی ملک میں مال ہے تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو