پرانے قبرستان میں دوکانیں بنوانا
سوال
- آراضی منسلکہ گورستان ایسی واقع ہے کہ جس میں غالباً کبھی قبر وغیرہ نہیں ملی اور وہ قطعی اور عام راستہ پر واقع ہے اگر اس آراضی میں دوکانیں بنوا کر کرایہ پر دیدی جائیں تو کوئی شرعی نقص واقع نہیں ہوگا اس سے قبل اسی ذیل دوکانیں بنی ہوئی بھی ہیں۔ اس کی آمدنی بھی گورستان کے صرفہ میں اسی طرح آئے گی جیسا کہ پہلی دوکانوں کی آ رہی تھی۔
جواب
اگر قبرستان میں وسعت کافی ہے اور یہ قطعہ منسلکہ مصالح قبرستان کے لئے وقف ہے اور اس میں دوکانیں بنوانے سے تدفین میں کوئی تنگی نہیں ہوگی تو دوکانیں بنوانا درست ہے پھر ان دوکانوں کی آمدنی قبرستان ہی کی مصالح میں صرف کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔