مسجد میں خرید وفروخت
سوال
مسجد میں خرید وفروخت جائز ہے کہ نہیں؟اگر جائز ہے تو کس صورت میں اور کس وقت، کیونکہ یہاں پر مدارس کے علاقہ میں علماء ہوں یا غیر علماء ان کو اگر کوئی کتاب فروخت کرنی ہوتی ہے تو وہ مسجد میں آکر تقریر کریں گے، اور اس کتاب کے فضائل بیان کریں گے، اور آخر میں اس کی قیمت بتا کر مسجد میں خرید وفروخت شروع کر دیں گے، اور ایسے ہی ایک صاحب نے ایک نقش تیار کر کے ممبر کے اوپر رکھ دیا اور اس کو فریم کرایا اور اس کے فضائل اپنی تقریر میں بیان کئے، کہ اس میں باری تعالیٰ کے اسماء ہیں اور اس کو اخیر میں انہوں نے تین تین روپے میں فروخت…
جواب
مسجد میں خرید و فروخت اس طرح بھی نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔