مسجد میں سونا
سوال
ایک شخص ایسا ہے جس کے مکان بھی ہے، اہل وعیال بھی ہیں، وہ ہمیشہ بجائے گھر کے مسجد میں سوتا ہے، مسجد کو گویا اس نے اپنا مکان سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ اپنا سامان نہیں رکھتا علاوہ بستر کے تو کیسا ہے اور اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
مستقلاً مسجد کو مکان بنانا اور وہاں رہائش اختیار کرنا نہیں چاہئے، یہ مکروہ اور احترام مسجد کے خلاف ہے لیکن اگر کسی پر نیند کا غلبہ ہو اور اسکی جماعت ترک ہوتی یا نماز قضا ہو جاتی ہے، اور مسجد میں سونے سے نماز با جماعت کی پابندی نصیب ہوتی ہے، یا تہجد کی توفیق ہوتی ہے، یا مسجد کی حفاظت مقصود ہے، یا کوئی اور دینی ضرورت ہے جو بغیر مسجد میں سوئے حاصل نہیں ہوتی تو اس کیلئے اجازت بھی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔