مسجد میں جلسہ وتقریر
سوال
موجودہ زمانہ میں جب کہ مساجد میں جلسے منعقد کئے جاتے ہیں، جو اپنے اندر بہت سی پیچیدگیوں کے حامل ہوتے ہیں، جن میں علاوہ تقاریر کے شور و غل ہاتھا پائی اور گالی گلوچ تک کی نوبت پہنچ جاتی ہے، اور ایک دوسرے پر آوازے کسے جاتے ہیں، اور طعن تشنیع سے کام لیا جاتا ہے، بعض اوقات تو اکثر سامعین اور بعض مقررین حضرات ایسی پستی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس کا ثبوت قہوہ خانوں میں بھی محال ہے، ایسے افعال کے مرتکب مساجد کا کیا حکم ہے؟
جواب
احکام شرعیہ بیان کرنے کیلئے مسجد میں جلسہ کرنا درست ہے، مقرر اور واعظ کو چاہئے کہ نہایت متانت اور سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حاضرین کو سنائے اور سمجھائے، اور سامعین کو بھی چاہئے کہ نہایت ادب اور احترام سے اس کو سنیں اور عمل کریں، جو صورت سوال میں درج ہے اس طریقہ پر جلسہ کرنا اور ایسی حرکات کا ارتکاب احترام مسجد کے قطعاً خلاف اور نا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔