سڑک کی توسیع میں مسجد کا نصف حصہ دیدینا
سوال
ہمارے یہاں بازار میں لب سڑک ایک مسجد تعمیر شدہ ہے، یہاں کی میونسپلٹی سرکار اس سڑک کو کشادہ کرنا چاہتی ہے، جس کے تحت سڑک میں آدھی مسجد چلی جائے گی، اور آدھی باقی رہ جائے گی، یہاں کے ایک سیٹھ نے بھی یہ مشورہ دیا ہے کہ مسجد کے شمال کی جانب ہماری جگہ ہے، جتنی جگہ مسجد کی جاتی ہے، وہ روڈ میں دیدو اور اتنی جگہ میں شمال کی جانب دیتا ہوں تم لوگ شمال کی طرف کشادہ کرلو، اور مسجد کی جنوب طرف سینٹرل گورنمنٹ کے پانی کا پائپ ہے اسکا پلان چوراسی فٹ کشادہ کا ہے، رام سیٹھ کا کہنا ہے کہ میں جو جگہ دیتا ہوں، اسے بڑھا کر بناؤ تو میں…
جواب
جو جگہ ایک دفعہ شرعی مسجد بنادی گئی وہ ساری عمر کے لئے مسجد ہو گئی، اس کو فروخت کرنا یا اس کا تبادلہ کرنا یا اس کا کوئی اور مکان، دوکان، مدرسہ مسافر خانہ وغیرہ بنانا یا وہاں کھیتی کرنا، مردے دفن کرنا بالکل جائز نہیں، صورت مسئولہ میں اگر مسجد کا کچھ حصہ حکومت لینا چاہتی ہے تو اس سے بیع وغیرہ کا معاملہ نہ کیا جائے، نہ اس سے لڑائی کی جائے، نہ اشتعال انگیزی کی جائے، نہ رام سیٹھ سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔