الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرکاری زمین میں مسجد

سوال

ہماری بستی کی آبادی تقریباً ۲۰ ہزار ہے جس میں چوتھائی مسلمان ہیں بستی سے وضو، طہارت کی سہولتیں مہیا ہیں، عبادت گاہ کے اطراف میں سو گھر کی آبادی ہے، پنجگانہ نماز میں ۳۰ سے ۴۰ نمازی ہوتے ہیں، دور سے عبادت گاہ کا حلیہ مسجد کی طرح نظر آتا ہے، لیکن چونکہ یہ عبادت گاہ سرکاری زمین میں بلا اجازت حکومت بنائی گئی ہے، اس لئے حکومت جب چاہے نابود کر سکتی ہے، تو ان حالات میں: (۱) عبادت گاہ مسجد کہلائے گی یا نہیں؟ (۲) نمازی کو مسجد کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ (۳)

جواب

(۲/۱) بحالت موجودہ عبادت گاہ کا احترام مسجد ہی کی طرح کیا جائے گا، اور اس میں کوئی کام خلاف احترام مسجد نہ کیا جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ وہاں نماز پڑھنے کا ثواب بھی مسجد ہی کا ملے گا۔ (۳) اس عبادت گاہ میں نماز جمعہ بھی ادا کر سکتے ہیں آخر پنجگانہ نمازیں پڑھتے ہی ہیں (۴) یہاں بھی نماز عید ادا کر سکتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو