الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا اجازت متولی جنگل کو نیلام کرنا

سوال

ایک جنگل جامع مسجد سکروڈہ کے نام وقف ہے، عرصہ بیس سال سے اور اس وقف کے متولی خاص کو کوئی نہیں وقف نامہ میں یہ تحریر ہے کہ جملہ نمبر داران وہ مذکورہ عرصہ بیس سال سے باہتمام واتفاق جملہ نمبرداران وہ جنگل کو نیلام کیا جاتا تھا، اور آمدنی مسجد کے اخراجات میں صرف کی جاتی تھی، امسال جو نیلام کیا گیا وہ صرف چند اشخاص کے ذریعہ سے نیلام ہوا جملہ نمبرداراں کی رائے واتفاق سے اس کا نیلام نہیں کیا گیا وقف ہونے سے اب تک جنگل کا ٹنڈر پولا وغیرہ نیلام ہو کر درو کرا دیا جاتا تھا، مگر مویشیوں پر جو وہاں چرنے اور پانی پینے جاتے تھے…

جواب

جب کہ جملہ نمبر داراں (حسب تصریح وقف نامہ) اس کے مہتمم ومتولی ہیں تو پھر بعض کا اس کو بلا دوسروں کی رائے نیلام کرنا شرعاً جائز نہیں: ليس لاحد الناظرين التصرف دون الآخر عندهما خلاف لابي يوسف. (بحرص: ۲۴۱، ج: ۵ کتاب الوقف) نیز پانی پر ٹیکس قائم کرنا بھی نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو