عید گاہ کے روپے سے اسپتال جاری کرنا
سوال
(۱) مظفر نگر میں عیدگاہ کی دوکانوں سے کافی آمد ہے، عیدگاہ نمازیوں کے لئے نا کافی ہے، کافی مقدار میں نمازی سڑک پر ہوتے ہیں، رخ بھی بالکل قبلہ سے ہٹا ہوا ہوتا ہے، اتنی رقم ہے کہ عید گاہ کو دو منزل بنا سکتے ہیں بایں صورت عید گاہ کی رقم سے ہسپتال جاری کرنا جائز ہے یا نہیں۔ (۲) قبرستان میں دوکانیں وغیرہ بنانا جائز ہے، یا نہیں اگر بنائی گئی تو بقاء کے لئے شرعی کیا حکم ہے؟
جواب
(۱) جو رقم بطور چندہ عید گاہ کے واسطے جمع کی گئی ہے، یا وقف عیدگاہ سے حاصل ہوئی ہے، اس کو ہسپتال میں صرف کرنا یا اس سے ہسپتال جاری کرنا درست نہیں ہے، منشاء معطی اور منشاء واقف کے خلاف ہے، جس کا حق متولی کو نہیں متولی امین ہوتا ہے، اس کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے، شرط الواقف كنص الشارع کذا فی رد المحتار۔ (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔