الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

موقوفہ زمین میں درخت لگانا پھر زیادہ آمدنی کے لئے ان کو کٹوا کر وہاں کھیتی کرنا

سوال

زید نے ایک آراضی ایک مسجد کے مصارف کے لئے وقف کی، ان مصارف کی تفصیل اس طرح کی کہ اس کی آمدنی امام کی تنخواہ، فرش، جھاڑو، لوٹے، مرمت مسجد وغیرہ پر صرف کی جائے، کچھ عرصہ بعد اس پر دیسی آم کا باغ لگا دیا گیا، چونکہ وقت کافی گذر گیا ہے، اور درخت پرانے ہو گئے ہیں، جس پر فصل بہت کم آتی ہے، جس کی آمدنی سے مسجد کے مصارف پورے نہیں ہوتے، تو کیا ان درختوں کو کاٹ کر اس پر کاشت کر کے مسجد کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ شیر ز خرید کر مسجد کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واقف نے آراضی وقف کی تھی، متولی خیر خواہ نے اس پر آم لگا دیئے تا کہ آمدنی زیادہ ہو جائے، اب پھل کم آنے کی وجہ سے آمدنی کم ہوگئی اور درختوں کو کٹوا کر کھیتی کیلئے آراضی کو خالی کرانے میں زیادہ آمدنی کا ظن غالب ہے، تو اصحاب الرائے سے مشورہ لیکر اسکی اجازت ہے درختوں کی قیمت مسجد کے ہی ان مصارف میں صرف کی جائے جن کیلئے آراضی وقف کی گئی تھی قیمت زیادہ وصول ہو تو کوئی دوسرا جائز…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو