وقف مشاع کی بیع مسجد کے تیل کی بیع
سوال
ہمارے یہاں مسجد کے نام تین نوع کا وقف ہے، نوع اول کلی وقف خواہ زراعت کی زمین ہو یا دوکانیں ہوں، اس کی کل آمدنی مسجد میں لگاتے ہیں، نوع دوم جزئی وقف یعنی پورا کھیت نہیں بلکہ بسوہ دو بسوہ مسجد کے نام کل کھیت اپنے قبضہ میں اب نہ اس قدر قلیل کو کوئی خرید سکتا ہے اور نہ وقف کرنے والا اس کو چھوڑ سکتا ہے اور نہ اس کی آمدنی مسجد میں دیتا ہے صرف برائے نام وقف ہے، سو ایسی حالت میں بعض کا یہ خیال ہے کہ یہ نوع دوم کی وقف وقف کرنے والے کے نام فروخت کر دیں، اور کل آمدنی مسجد میں لگادیں سو یہ درست ہے کہ نہیں؟
جواب
جو زمین با قاعدہ وقف کر دی گئی ہو اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے مگر اس صورت میں واقف نے بوقت وقف یہ شرط کی ہو کہ اگر اس زمین سے انتفاع نہ ہو سکے تو اس کے عوض دوسری زمین لے کر وقف کر دی جائے تو اس کی شرط کے مطابق عمل درست ہے جس قدر حصہ اس نے وقف کیا ہے اس کی آمدنی اس کو خود استعمال کرنا جائز نہیں بلکہ مسجد میں صرف کرنا واجب ہے متولی اور دیگر اہل مسجد کو اس کے مطالبہ کا حق ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔