الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استبدال وقف

سوال

ایک اسلامی ادارہ میں ایک موقوفہ مکان ہے، جس کا کرایہ ماہانہ ہے اور وہ اس قدر خستہ حال پر ہے، کہ کسی وقت بھی منہدم ہو سکتا ہے، ہر سال اسکی مرمت وغیرہ میں اسکی آمدنی سے زائد خرچ ہوتا ہے ادارہ کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ از سر نو تعمیر کرا سکے، کیا ایسی صورت میں اس موقوفہ مکان کو بیچ کر اس کی قیمت سے کوئی دوسری جائیداد خریدی یا بنوائی جاسکتی ہے؟ اور اس کو اس موقوفہ مکان کا نام دیا جا سکتا ہے؟

جواب

جب کہ اس کی مرمت میں روپیہ اس کی آمدنی سے زائد خرچ ہوتا ہے، اور جدید تعمیر کی گنجائش نہیں تو اس کی منفعت مفقود ہے ایسی حالت میں اس کو فروخت کر کے اس کی جگہ دوسرا مکان خرید کر وقف کر دیا جائے تو درست بلکہ قابل تحسین ہے، خاص کر جب کہ نو خرید کردہ مکان سے آمدنی نسبہ زیادہ ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو