استبدال وقف
سوال
آپکو معلوم ہیکہ حاجی عبد القیوم صاحب مرحوم نے بزمانہ حیات خود اپنی جائداد وقف علی الاولاد کی تھی، جسکا وقف نامہ آپکے دفتر میں موجود ہے، کیونکہ منافع میں سے حصہ پانے والوں میں ایک آپ کا مدرسہ بھی ہے، وقف نامہ میں متولی مجھ کو کیا گیا ہے اور مجھ کو اختیارات متولی حسب صراحت وقف نامہ دیئے گئے ہیں منجملہ جائداد موقوفہ ایک مکان مسکونہ بھی ہے، جس کی آمدنی اس وقت سو روپیہ ماہوار ہے، مکان مذکورہ سے بصورت موجودہ تا وقتیکہ کوئی کثیر رقم خرچ نہ کی جاوے اضافہ کی بظاہر کوئی امید نہیں ہے، اس مکان سے ملحق مکان حافظ محمد صدیق صاحب…
جواب
ا۔ واقف نے جب کہ وقف نامہ میں مکان وجائداد موقوفہ کے ہر قسم کے انتقال کو صراحة منع کر دیا ہے تو متولی کو کسی طرح اسکے انتقال کا حق نہیں البتہ اگر جائداد بالکل نا قابل انتفاع ہو جائے تو شرعی قاضی کو اس کا استبدال چند شرائط کے ساتھ جائز ہے: هذا اذا شرط الاستبدال في اصل الوقف واما اذا لم يشترط فقد يخصص براى اول القضاة الثلثة المشاراليه بقوله عليه الصلوة والسلام قاض في الجنة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔