قربانی کا گوشت سب حصہ داروں کو تول کر تقسیم کیا جائے
سوال
ایک عزیز نے مجھ سے کہا کہ اپنی گائے میں ہمارا بھی قربانی کا حصہ کر دینا چنانچہ اس نے ایک روز قبل ان کو ان کے حصہ ہونے کی اطلاع دی، نیز یہ بھی کہا کہ آپ کے یہاں گائے کی کون کون سی چیزیں بھجوا دوں وہ موجود نہ تھے، بالغ لڑکے نے اندر سے جواب دیا کہ ہم کو سوائے گوشت کے کچھ نہ چاہئے، اور ہم صرف دوسیر گوشت خود رکھیں گے باقی تقسیم کر دیں گے، اس کے بعد قربانی کے وقت میں ان کے یہاں چھپڑا خالی گوشت رکھنے کیلئے لینے گیا، اس وقت بھی وہ نہ ملے اور لڑکے نے جواب دیا بعد قربانی گوشت کا ساتواں حصہ کلیجی پائے وغیرہ اجزاء کا ساتواں…
جواب
صورت مسئولہ میں قربانی صحیح ہوگئی، گوشت تول کر تقسیم کرنا چاہئے تھا، اس کے بعد اختیار تھا اپنے حصہ کا جو چاہے کرتا، اگر گوشت بلا تولے تقسیم کیا جاوے اور کمی بیشی ہو جاوے تو جو زیادتی دوسرے کے پاس جاوے گی وہ سود کے حکم میں ہوگی،اگر چہ بعد میں کمی والے نے زیادتی ہبہ کردی ہو کیونکہ ہبہ مشاع صحیح نہیں ہوتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔