الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اس بھینس کی قربانی جو موٹی ہو مگر دو سال سے کم ہو

سوال

(۱) ایک جانور مثال کے طریقہ پر بکرا یا گائے، یا بھینس جس کی عمر ۲۰/ ماہ ہے، مگر دو سال سے بھی زیادہ کا معلوم ہوتا ہے، خوب موٹا تازہ اور فربہ ہے تو کیا اس جانور کی قربانی ہو جائے گی، اس جانور میں کمی کسی قسم کی بھی نہیں ہے، مفصل لکھیں؟ (۲) ایک جانور ہے جس کی عمر ۲۰ رماہ کی ہے اور گھر کا پلا ہوا ہے، دوسال کا معلوم ہوتا ہے، سوال نمبر ۱ میں جو مذکور ہے وہی سوال نمبر ۲ میں ہے، مگر فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس جانور ایک ہی ہے، اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی جانور نہیں ہے، تو کیا اس جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) اس میں کمی یہی ہے کہ پورے دو سال کا نہیں، اگرچہ فربہ ہونے کی وجہ سے دو سال کا معلوم ہوتا ہے، دنبہ اگر سال بھر سے کچھ کم کا ہو، اور فربہ ہونے کی وجہ سے سال بھر کے دنبوں میں چھوڑ دینے سے فرق معلوم نہ ہوتا ہو تو اس کی قربانی کی اجازت ہے، بھیڑ بھی اسی کے حکم میں ہے، لیکن دوسرے جانوروں، بکری، گائے، بھینس، اونٹ کی عمر کی کمی کا بدل اس کا موٹا ہونا نہیں ہو سکتا ہے (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو