خنثی بکری کی قربانی
سوال
خنثی بکری کی قربانی شرعاً درست ہے یا نہیں؟ علامت اس کی یہ ہے کہ بکری کی علامت اس کی نہیں ہے، اور پیچھے سے اس کو دیکھ کر تو بکری جیسی معلوم ہوتی ہے، یعنی جس مقام پر بکری کی فرج ہوتی ہے اس مقام پر اس کی فرج نہیں ہے، جس مقام پر بکرے کے خصیے ہوتے ہیں اس جگہ پر پیشاب کرنے کا مقام ہے بکرے کی علامت بھی اس میں موجود نہیں، دو چھوٹے چھوٹے آنچل ہیں، ان کے درمیان سے مذکورہ بکری پیشاب کرتی ہے، یعنی دونوں آنچل کے درمیان میں اس کی فرج ہے، اور وہ فرج بکریوں کی سی فرج نہیں، صرف تھوڑی سی علامت ہے، فتاوی دار العلوم میں لکھا ہے کہ…
جواب
جس بکری میں نر اور مادہ دونوں کی علامتیں موجود نہ ہوں یا دونوں کی علامت ہو وہ خنثی ہے اس کی قربانی نہ کی جائے ”ولا بالخنثى لان لحمها لا ينضج شرح وهبانیه“ (در مختار ص ۲۰۷/ ج ۵ /
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔