الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قربانی کس پر واجب ہے؟

سوال

قربانی کے متعلق ایک کتاب میری نظر سے گذری، اس میں مصنف نے لکھا ہے کہ قربانی ہر مقیم، آزاد، مسلمان، عاقل، بالغ، مالک نصاب پر واجب ہے، مالک نصاب وہ شخص ہے جس کے پاس اسباب خانہ داری کے سوائے ایک تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چھتیس روپئے موجود ہوں، یہاں پر ایک سال کا گذرنا شرط نہیں، جو شخص مالک نصاب نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں، البتہ مستحب ہے، بچے کی طرف سے بھی قربانی کرنا واجب ہے۔ (کنز الدقائق، ابوداؤد)

جواب

چھتیس روپیہ کو نصاب قرار دینا تو غلط ہے، ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت جتنے روپیہ ہوں گے ان کو نصاب کہا جائے گا، بچے کی طرف سے قربانی مفتی بہ قول ہے کہ واجب نہیں ہے، بقیہ مضمون صحیح ہے، ”فتجب التضحیۃ عن نفسہ لا عن طفلہ علی الظاہر“ اہ (در مختار) قال الشامی بعد نقل روایۃ زفر والفتویٰ علی ظاہر الروایۃ اہ (رد المحتار ج۵/ص۲۰۰)۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو