قربانی کا ثبوت قرآن وحدیث سے
سوال
قربانی کا مسئلہ آج کل عام دل چسپی کا موضوع بنا ہوا ہے کچھ لوگ سرے سے اس کا انکار کر رہے ہیں، تو کچھ لوگ اسے قرآن مجید سے ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں، اس سلسلہ میں خاصا تفریط سے کام لیا جا رہا ہے، عوام اس مسئلہ کی صحیح شرعی حیثیت سے آگاہ نہیں، جہاں تک میرا خیال ہے، قرآن مجید میں قطعیت کے ساتھ یہ حکم ہی نہیں آیا نہ حج کے دنوں میں مکہ شریف کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی تمام مسلمانوں کے لئے قربانی کرنا لازم ہے، سورہ الحج ملاحظہ ہو ”ذلك ومن يعظم شعائر الله“ (قربانی دلوں کی پرہیز گاری میں داخل ہے ان چار پاریوں میں)
جواب
مسائل کے واسطے ماخذ قرآن کریم ہے یہ تو اصل سرچشمہ ہے اور حدیث سے بھی مسائل ثابت ہوتے ہیں، قرآن کریم میں حکم ہے کہ جو حکم تم کو رسول دیں اس کو عمل کے لئے قبول کرو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہو، نیز قرآن پاک میں ہے کہ ہم نے جس رسول کو بھیجا اس لئے بھیجا کہ اس کی اطاعت کی جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔