کیا کعبہ حضرت رابعہ کے استقبال کو گیا تھا
سوال
حضرت رابعہ بصری کی کرامات میں یہ روایت کہاں تک درست ہے، کہ وہ جب حج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئیں، تو کچھ فاصلہ پر کعبہ ان کے استقبال کو گیا؟ اس وقت جب ایک بزرگ طواف کی غرض سے حرم میں پہنچے تو کعبہ کو وہاں نہ پایا، اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس کی کیا حقیقت ہے؟ کیا عین کعبہ اپنی جگہ سے چلا گیا تھا، یا مثل کعبہ؟ اس قسم کی باتیں وعظ میں کہنا کیسا ہے؟
جواب
یہ روایت حدیث شریف کی روایت نہیں جس کیلئے سند متصل تلاش کر کے بتایا جا سکے نہ اس کی تحقیق کی ضرورت ہے، عوام کے سامنے ایسی باتیں تقریر میں بیان کرنا ان کو پریشانی میں مبتلا کرنا ہے، جب تک وہ حقیقت نہیں سمجھیں گے پریشان رہیں گے، اور ہر ایک میں حقیقت سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے کعبتہ اللہ تجلی گاہ ہے وہ مخصوص تجلی جب کسی اور جانب ہوتی ہے، تو بعض اہل کشف کہتے ہیں کہ کعبۃ اللہ اپنی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔