الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حضرت علیؓ اور حضرت دحیہ کی داڑھی کیا ناف تک تھی؟

سوال

حضرت علیؓ اور حضرت دحیہ کی داڑھی کیا ناف تک تھی اس کی مقدار کتنی ہونی چاہئے؟

جواب

ایک مشت تک پہنچنے سے پہلے داڑھی کٹانا درست نہیں، ایک مشت کے بعد دونوں قول ہیں صحیح یہی ہے کہ جو حصہ ایک مشت سے زائد ہو اس کو کٹانا درست ہے، حضوراکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت ہے، پس سنت تو ایک مشت ہی ہے معمولی اضافہ ہو جائے تو اس میں بھی حرج نہیں ہے ناف تک حضرت علیؓ اور حضرت دحیہ کلبی کی داڑھی احادیث سے ثابت نہیں، کتب تواریخ میں اتنا منقول ہے کہ حضرت علیؓ کے سینہ اور پیٹ پر بال…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو