پاگل کی بیوی کا نکاح منسوخ کرا دیا
سوال
زید نے اپنی ہمشیرہ کا نکاح ۱۹۵۹ میں بکر کے ساتھ کیا تھا، اور زید کی ہمشیرہ سے یکے بعد دیگرے دولڑکیاں پیدا ہوئیں، بکر اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا اور سری نگر کے دماغی امراض کے ہسپتال میں محبوس ہے، چند سال کے بعد سری نگر کی ایک عدالت نے بکر اور اس کی بیوی کا نکاح منسوخ قرار دیا، اور بکر کی دونوں لڑکیاں جن میں بڑی لڑکی جو تقریباً گیارہ سال کی ہے، مخبوط الحواس ہے، اپنے ماموں کے پاس رہ رہی ہے، اس کے تمام اخراجات زید (ماموں)
جواب
جو نکاح منسوخ کر دیا گیا ہے، اس کے متعلق تو پوری تفصیل معلوم ہونے سے پہلے کچھ نہیں لکھا جاسکتا، نابالغ لڑکیوں کا نفقہ خرچہ باپ کے ذمہ ہے، اگر وہ پاگل ہے تو خاندان کے سر بر آوردہ لوگ باپ کے مال سے مناسب طور پر نفقہ کا انتظام کریں، قطعہ زمین کے فروخت کرنے کا بہنوئی کو اختیار حاصل نہیں تھا، یہ بیچ غلط ہوئی، اس کی واپسی ضروری ہے، اس سلسلہ میں اگر ضرورت ہو تو حکومت سے بھی مدد لی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔