شوہر بیوی کا معاملہ برادری کے حوالہ کرنا
سوال
ایک لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ رہنے سے کسی بات پر ناراض چلی جا رہی تھی، لڑکی کے والدین نے یہ معاملہ برادری کے ہاتھ میں فیصلہ کے لئے دیدیا، اور اقرار نامہ دیدیا لڑکے کے والد سے بھی برادری نے کہا کہ تم بھی لڑکے کا معاملہ برادری کے ہاتھ میں دیدو اور اقرار نامہ دیدو کہ برادری از روئے شرع جو مناسب سمجھے طے کر دیں، مگر لڑکے والے تیار نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے برادری نے لڑکے والوں سے قطع تعلق وعدم شرکت غمی وخوشی طے کر دیا، اور یہ فیصلہ کل برادری پر نافذ کیا تو کیا مسلمانوں کو ایسا کرنے کا شرعا حق ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
جواب
اگر لڑ کی بالغہ ہے اور اس کی مرضی سے شوہر کے معاملہ کو حل کرنے کے لئے برادری کو اختیار دیدیا ہے کہ وہ شریعت کے مطابق جس طرح طے کر دے منظور ہے، تو شرعاً اس میں کچھ مضائقہ نہیں، لڑکے والے بھی اگر لڑکے کی رضامندی سے اس طرح برادری کو اختیار دیں تب بھی درست ہے، لیکن مجبور کرنے کا حق نہیں، پس برادری کا یہ فیصلہ کہ لڑکے والوں سے قطع تعلق کر دیا شرعا صحیح نہیں ہے، اس فیصلہ کو ختم کرنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔