الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا ولی کو فسخ نکاح کا حق ہے

سوال

ہندہ نے اپنی لڑکی زاہدہ کا نکاح بلا مرضی زید (اپنے شوہر) محمود سے پڑھوا دیا لڑکا بعد نکاح نہایت بد خلق اور بد مزاج نکلا، لڑکی زاہدہ ہنوز نابالغہ ہے، اس کی بدمزاجی سے نالاں اور پریشان حال ہے، صورت حال دونوں میں ایک دم نباہ کی صورت نظر نہیں آتی ہے، زید یعنی باپ لڑکی کا من حیث ولی نکاح فسخ کر سکتا ہے یا نہیں، یا زید خیار بلوغ پر نکاح کے فسخ کو موقوف رکھے۔ بینوا وتوجروا

جواب

باپ کی موجودگی میں ماں کو ولایت نکاح حاصل نہیں، صورت مسئولہ میں یہ نکاح باپ کی اجازت پر موقوف ہے، اگر باپ نے اجازت دیدی ہو تو جائز ہو گیا، اب نہ خود فسخ کر سکتا ہے، نہ اس صورت میں لڑکی کو خیار بلوغ حاصل ہوگا، بلکہ یہ نکاح لازم ہو گیا، اگر باپ نے اجازت نہیں دی، بلکہ رد کر دیا تو وہ رد ہو گیا، یعنی شرعاً یہ نکاح غیر معتبر ہے، فسخ کرانے کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ دوسری جگہ نکاح کرنا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو